نور مقدم کیس؛ ملزم ظاہر جعفر نے اعتراف جرم کرلیا

نور نے ڈرائیور کو 7لاکھ لیکر ظاہر کے گھرپہنچنے کا کہا، ملزم کا 2روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ۔  فوٹو : فائل

اسلام آباد: 

 نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم قتل کی وجوہات کبھی کچھ بتاتا ہے تو کبھی کچھ، پولیس نے نور پر تشدد کے وڈیو شواہد بھی حاصل کر لیے، نور مقدم ساڑھے 4بجے بالکنی سے بھاگ کر گارڈ کے پاس آئی، نور نے اپنے آپ کو سیکیورٹی گارڈ کے کیبن میں بند کر لیا، ملزم ظاہر جعفر پیچھے آیا اور کیبن سے نور کو باہر نکالا، گلی میں موجود گارڈ یہ سب کچھ دیکھتے رہے، کسی بھی گارڈ نے ظاہر جعفر کو تشدد کرنے سے نہ روکا، گلی میں اور بھی لوگ موجود تھے، جنھوں نے نور کو گھسٹتے ہوئے دیکھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ملزم اس کو دوبارہ اوپر لیکر گیا، تشدد سے لیکر قتل تک کا عمل تین گھنٹے کے دوران کیا گیا، نورمقدم نے اپنے ڈرائیورسے 7لاکھ روپے لیکرملزم ظاہر ذاکرجعفر کے گھر پہنچنے کا کہا، یہ انکشاف مقتولہ کے خاندان کی جانب سے تفتیشی ٹیم سے سامنے کیاگیا ہے۔

تفتیشی ٹیم کے ذرائع نے بتایاہے کہ رقم دینے کا ابھی تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، سینئیر پولیس آفیسر نے بتایاکہ رقم مقتولہ کے اکاونٹ ،گھر سے ،یا کہیں اور کسی عزیزسے منگوائی گئی کی کوئی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

علاوہ ازیں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، تھانہ کوہسار پولیس نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر گزشتہ روز اسلام آباد کچہری میں ڈیوٹی مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا کے سامنے پیش کیا، بجلی نا ہونے کی وجہ سے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے موبائل کی لائٹ میں کورٹ پروسیڈنگ چلائی۔

اسٹیٹ پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے کیس کی پیش رفت سے متعلق عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر سے پستول ریکور کرلیا گیا ہے، اب اس سے موبائل ریکور کرنا ہے، کیس میں مزید ملزمان کی گرفتاری کے بعد نئی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملزم کے وکیل انصر نواز مرزا نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی، عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرتے ہوئے پولیس کو ملزم سے تفتیش کرکے 28 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی، سماعت کے بعد عدالت سے ملزم کو جب پولیس واپس لے جا رہی تھی تو ملزم نے پولیس کو کھڑے ہوئے کہا میری جان کو خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں