ایک اتفاق جس نے پشاور کے یوسف کو برصغیر کی فلم نگری کا دلیپ بنا دیا

وہ اپنے والدین کے بچوں میں سے چوتھے نمبر پر تھا، والد پھل اور خشک میوہ کا کاروبار کرتے تھے،عملی زندگی کا آغاز یوں کیا کہ پونا سینڈوچ اور لیمونیڈ کا اسٹال لگا لیا۔
گھر چھوڑنے کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شام جیسے ہی وہ گھر پہنچا، باپ کا پارہ آسمان کو چھو رہا تھا، زبان آگ اگل رہی تھی،سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اصل ماجرہ کیا ہے، نوجوان کے لب خاموش تھے لیکن دل میں بغاوت کا طوفان امڈ آیا تھا، کمرے میں گیا، کپڑے لیے اور گھر سے نکل کھڑا ہوا، پونا جانے کے لیے تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لیا اور انجانی منزل کی جانب رواں ہو گیا۔
ک ریستوران میں کینٹین مینیجر کے اسسٹنٹ سے کام کا آغاز کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر منیجر کے عہدہ پر جا پہنچا، پونا میں کام ٹھپ ہوا تو بمبئی میں تگ و دو کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ یہ پشاور سے بمبئی آ کر بسنے والے لالہ غلام سرور خان کا شرمیلا لڑکا یوسف خان تھا جسے دنیا آج دلیپ کمار کے نام سے جانتی ہے۔
لیپ کمارکی فلمی دنیا میں آنے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے، سوچنے اور محسوس کرنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے زندگی میں شاید صرف ایک بارہی فلم دیکھی ہو اور وہ ایک دن ایک ارب 39 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک بھارت کا سب سے ٹاپ سٹار بھی بن جائے، یہ بڑی عجیب سی بات دکھائی دیتی ہے۔

اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن کسی کام کے سلسلے میں یوسف بمبئی کے چرچ گیٹ ریلوے سٹیشن پر کھڑا تھا کہ ایک جانی پہچانی صورت نظر آئی ، غور کیا تو وہ مشہور نفسیات دان ڈاکٹر مسانی تھے جو ایک بار ان کے کالج میں لیکچر دینے آئے تھے۔ ہیلو ہائے کے بعد ڈاکٹر مسانی نے پوچھا یوسف آج کل کیا کر رہے ہو؟’ ‘نوکری کی تلاش،‘ دلیپ نے کہا۔ڈاکٹر مسانی نے کہا، یہ بات ہے تو چلو قسمت آزما کر دیکھتے ہیں، اور یوسف کوساتھ لے کر بمبئی ٹاکیز چلے گئے۔ وہاں دیویکا رانی اور مشہور ڈائریکٹر امیا چکرورتھی دونوں موجود تھے۔
دیویکا رانی نے پوچھا، ’آپ کی اردو کیسی ہے؟‘ نوجوان سے پہلے ڈاکٹر مسانی نے تعریفوں کے پل باندھ دئیے،بعد ازاں دیویکارانی اور یوسف کی مختصر بات ہوئی جس میں دیویکارانی نے یوسف میں چھپے فنکار کو بھانپ لیا اور انہیں پرکشش معاوضے پر فلموں میں کام کرنے کی پیشکش بھی کر دی۔یوں بمبئی ٹاکیز نے نہ صرف ان کی تقدیر بدلی بلکہ ان کا نام بھی بدل ڈالا اور وہ یوسف خان سے دلیپ کمار بن گئے۔

اداکار دیویکا رانی نے دلیپ کمار کو ان کی مسلم شناخت کو چھپانے اور ایک نیا ہندو نام لینے کا مشورہ دیا کیونکہ رانی کا خیال تھا کہ ہندو نام تقسیمِ ہند کے بعد بھارت میں دلیپ کمار کو فلمی کیریئر میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد دے گا

دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1944ء میں فلم ’جواربھاٹا‘سے کیا مگر فلم انڈسٹری میں اپنی اصل پہچان 1960ء میں تاریخی فلم ’مغلِ اعظم‘ میں شہزادہ سلیم کا کردار ادا کر کے بنائی۔ دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیرئیر کے دوران مغل اعظم، ملن، جگنو، شہید، ندیا کے پار، انداز جوگن، بابل، آرزو، ترانہ، ہلچل، دیدار، سنگدل، داغ، آن، شکست، فٹ پاتھ، امر،اڑن کٹھولا، انسانیت، دیوداس، نیا دور، پیغام، کوہ نور،گنگا جمنا، شکتی، سمیت کئی لازوال فلموں میں عمدہ اداکاری کے جوہر دکھائے۔

سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران میں انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسانے کا فن بھی جانتے ہیں۔
لیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ انڈین فلم انڈسٹری انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے سٹائل کی نقل لڑکے کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر مرتی تھیں۔

ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علیحدہ ہو گئے۔ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ 1998 میں فلم ‘ قلعہ ‘ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ دلیپ کمار صرف فلمی پارٹیوں میں اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آتے رہے۔

ایک اتفاق جس نے پشاور کے یوسف کو برصغیر کی فلم نگری کا دلیپ بنا دیا
ایک اتفاق جس نے پشاور کے یوسف کو برصغیر کی فلم نگری کا دلیپ بنا دیاشیئرٹویٹ
میاں اصغر سلیمی اتوار 11 جولائ 2021
شیئرٹویٹشیئرای میلتبصرے
مزید شیئر
مزید اردو خبریں
دلیپ کمار دنیا چھوڑ گئے،اداکاری کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ فوٹو: فائل
دلیپ کمار دنیا چھوڑ گئے،اداکاری کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ فوٹو: فائل

وہ اپنے والدین کے بچوں میں سے چوتھے نمبر پر تھا، والد پھل اور خشک میوہ کا کاروبار کرتے تھے،عملی زندگی کا آغاز یوں کیا کہ پونا سینڈوچ اور لیمونیڈ کا اسٹال لگا لیا۔

گھر چھوڑنے کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شام جیسے ہی وہ گھر پہنچا، باپ کا پارہ آسمان کو چھو رہا تھا، زبان آگ اگل رہی تھی،سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اصل ماجرہ کیا ہے، نوجوان کے لب خاموش تھے لیکن دل میں بغاوت کا طوفان امڈ آیا تھا، کمرے میں گیا، کپڑے لیے اور گھر سے نکل کھڑا ہوا، پونا جانے کے لیے تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لیا اور انجانی منزل کی جانب رواں ہو گیا۔

ایک ریستوران میں کینٹین مینیجر کے اسسٹنٹ سے کام کا آغاز کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر منیجر کے عہدہ پر جا پہنچا، پونا میں کام ٹھپ ہوا تو بمبئی میں تگ و دو کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ یہ پشاور سے بمبئی آ کر بسنے والے لالہ غلام سرور خان کا شرمیلا لڑکا یوسف خان تھا جسے دنیا آج دلیپ کمار کے نام سے جانتی ہے۔

دلیپ کمارکی فلمی دنیا میں آنے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے، سوچنے اور محسوس کرنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے زندگی میں شاید صرف ایک بارہی فلم دیکھی ہو اور وہ ایک دن ایک ارب 39 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک بھارت کا سب سے ٹاپ سٹار بھی بن جائے، یہ بڑی عجیب سی بات دکھائی دیتی ہے۔

اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن کسی کام کے سلسلے میں یوسف بمبئی کے چرچ گیٹ ریلوے سٹیشن پر کھڑا تھا کہ ایک جانی پہچانی صورت نظر آئی ، غور کیا تو وہ مشہور نفسیات دان ڈاکٹر مسانی تھے جو ایک بار ان کے کالج میں لیکچر دینے آئے تھے۔ ہیلو ہائے کے بعد ڈاکٹر مسانی نے پوچھا یوسف آج کل کیا کر رہے ہو؟’ ‘نوکری کی تلاش،‘ دلیپ نے کہا۔ڈاکٹر مسانی نے کہا، یہ بات ہے تو چلو قسمت آزما کر دیکھتے ہیں، اور یوسف کوساتھ لے کر بمبئی ٹاکیز چلے گئے۔ وہاں دیویکا رانی اور مشہور ڈائریکٹر امیا چکرورتھی دونوں موجود تھے۔

دیویکا رانی نے پوچھا، ’آپ کی اردو کیسی ہے؟‘ نوجوان سے پہلے ڈاکٹر مسانی نے تعریفوں کے پل باندھ دئیے،بعد ازاں دیویکارانی اور یوسف کی مختصر بات ہوئی جس میں دیویکارانی نے یوسف میں چھپے فنکار کو بھانپ لیا اور انہیں پرکشش معاوضے پر فلموں میں کام کرنے کی پیشکش بھی کر دی۔یوں بمبئی ٹاکیز نے نہ صرف ان کی تقدیر بدلی بلکہ ان کا نام بھی بدل ڈالا اور وہ یوسف خان سے دلیپ کمار بن گئے۔

اداکار دیویکا رانی نے دلیپ کمار کو ان کی مسلم شناخت کو چھپانے اور ایک نیا ہندو نام لینے کا مشورہ دیا کیونکہ رانی کا خیال تھا کہ ہندو نام تقسیمِ ہند کے بعد بھارت میں دلیپ کمار کو فلمی کیریئر میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد دے گا۔

دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1944ء میں فلم ’جواربھاٹا‘سے کیا مگر فلم انڈسٹری میں اپنی اصل پہچان 1960ء میں تاریخی فلم ’مغلِ اعظم‘ میں شہزادہ سلیم کا کردار ادا کر کے بنائی۔ دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیرئیر کے دوران مغل اعظم، ملن، جگنو، شہید، ندیا کے پار، انداز جوگن، بابل، آرزو، ترانہ، ہلچل، دیدار، سنگدل، داغ، آن، شکست، فٹ پاتھ، امر،اڑن کٹھولا، انسانیت، دیوداس، نیا دور، پیغام، کوہ نور،گنگا جمنا، شکتی، سمیت کئی لازوال فلموں میں عمدہ اداکاری کے جوہر دکھائے۔

سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران میں انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسانے کا فن بھی جانتے ہیں۔

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ انڈین فلم انڈسٹری انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے سٹائل کی نقل لڑکے کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر مرتی تھیں۔

ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علیحدہ ہو گئے۔ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ 1998 میں فلم ‘ قلعہ ‘ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ دلیپ کمار صرف فلمی پارٹیوں میں اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آتے رہے۔

ابتدائی دور میں دلیپ کمار کو ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی اصل منزل کے حصول کے لئے ڈٹے رہے،ایک بار دلیپ کمار کرکٹ سٹیڈیم پہنچے تو دو شخص ان کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ یہ ملے تو پتہ چلا ایک موسیقار نوشاد علی اور دوسرے پروڈیوسر ڈائریکٹر محبوب خان ہیں۔ نوشاد نے دلیپ کمار کو ملاقات کی دعوت دی۔ اگلے دن پروڈیوسر ڈائریکٹر یو ایس سنی کے دفتر میں ان کی ملاقات ہوئی اور دلیپ صاحب کے سامنے ‘میلہ’ فلم کی کہانی رکھی گئی۔

‘میلہ’ سے دلیپ کمار اور نوشاد کی طویل رفاقت کا آغاز ہوا، جنہوں نے اگلے 20 برس میں 14 فلمیں ایک ساتھ کیں۔ بمبئی کی فلم نگری میں اس وقت راج کپور اور نرگس کے رومانوی تعلقات کی دھوم مچی تھی۔ ‘برسات’ اور ‘انداز’ میں دونوں کے انداز پس پردہ محبت کی برسات کا پتہ دیتے تھے، لیکن 1951کی فلم ‘ترانہ’ سے بھارت میں رومانس کے نئے دور کی بنا پڑی

اپنا تبصرہ بھیجیں