قسط نمبر 1 سے آخری قسط “سارہ۔۔۔۔بیٹا نیچے آجاؤ کب تک اس بلی کے پیچھے پڑی رہو گی


قسط نمبر 1 + قسط نمبر 2 + قسط نمبر 3 +قسط 4 + قسط نمبر 5 + قسط نمبر 6 + آخری قسط
“سارہ۔۔۔۔بیٹا نیچے آجاؤ کب تک اس بلی کے پیچھے پڑی رہو گی”بے زبان ہے بے چاری۔’سارہ کی ماں نے اسے نیچے بلایا وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ایک سیاہ بلی کا پیچھا کر رہی تھی۔ذرد آنکھوں اور مکمل سیاہ رنگ کی یہ بلی سارہ کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی وہ ہر ممکن کوشش کر تی کہ بلی کو گھر سے نکال دے۔مگر بلی بھی اپنے نام کی ایک تھی ٹس سے مس نہ ہوتی۔تھوڑی دیر نظروں سے اوجھل رہنے کے بعد وہ پھر سے انکے گھر کی دیواروں پر منڈلانے لگتی۔جانے کیا وجہ تھی کہ وہ بلی اسی گھر میں آتی تھی۔سارہ ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔۔اس کی ماں ایک چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ہیڈ تھی۔اور وہ 9thجماعت کی طالبہ تھی۔پڑھائ میں بہت اچھی تھی۔سکالرشپ کے لیے چنی گئ تھی۔جس پر وہ بہت خوش تھی۔اس کے بابا زیادہ تر ملک سے باہر ہوتے تھے۔سارہ انکی اکلوتی اولاد تھی۔یہ لوگ لاہور کے ایک پوش ایریے میں رہائش پزیر تھے۔اس وقت بھی وہ امتحانات کی تیاری کے لئے چھت پر آئ تھی موسم اچھا تھا تو اس نے اندر بیٹھنے کی بجائے چھت پر جانا ضروری سمجھا۔ابھی وہ اوپر گئ ہی تھی کہ اسے وہ بلی نظر آئ۔ سارہ کو اس سے خوف محسوس ہوتا تھا۔کیونکہ وہ اس کے بھگانے کی بجائے ایک دو قدم چل کے رک جاتی۔اور غرانے لگتی۔ماما کی آواز پر اس نے بلی کا پیچھا کر نا ترک کیا اور ماما کی بات سننے نیچے اتر گئ۔بلی اس کو جاتا دیکھ کر پھر سے ادھر ہی بیٹھ گئ۔اس کی آنکھوں میں عجیب سی خوفناکی تھی۔۔۔بھاگنے کی بجائے وہ ان کی چھت پر کود گئ۔۔۔بلی ان کی چھت پر کود گئ اور اوپر بنے ہو ۓ سٹور روم کی دیوار میں غائب ہوگئ۔
سارہ اپنے کمرے میں چلی گئ۔شام کے ساۓ پھیل رہے تھے۔خزاں رسیدہ پتے باہر بنی ہوئ سڑک پر پھیلے ہوۓ تھے۔ہوا چلتی تو اس میں اور اضافہ ہو جاتا۔سارہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔شام کی سرخی فضا میں عجیب کیفیت پیدا کر رہی تھی۔وہ باہر کے منظر میں کھوئ ہوئ تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے پیچھے کوئ کھڑا ہوا ہے اورآہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوۓ اس کے قریب آرہا ہے۔سارہ اپنے پیچھے دیکھنا چاہتی تھی مگر خوف سے اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔وہ احساس اتنا شدید تھا کہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ نادیدہ ہستی بس اسکا گلا دبوچنے ہی والی ہے۔اب اسے اپنی گردن پہ گرم سانسوں کی تپش بھی محسوس ہونے لگی تھی۔اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف بڑھایا تو کوئ سخت شے اس کے ہاتھ سے ٹکرائ۔ اس نے جلدی سے مڑ کر دیکھا تو اس کے حلق سے چیخ نکل گئ۔وہ ایک مرا ہوا کبوتر تھا۔اس کا جسم اکڑا ہوا اور اس پر بےشمار ننھی ننھی چیونٹیاں دوڑ رہی ہیں۔پیٹ درمیان سے غائب اور کمرے میں گندی سی بو بسی ہوئ تھی۔وہ الٹے قدموں اپنے بیڈ پر ڈھیر ہوگئ۔اس کی ٹانگوں میں جیسے جان نہیں رہی تھی۔ہاتھوں میں جیسے سنسنا ہٹ سی ہو رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے ابھی بھی وہ کبوتر پکڑا ہوا ہے۔عین اسی وقت وہی سیاہ بلی تیزی سے اس کے پیروں میں سے نکلی اور اس کبوتر کو لے کر کھڑکی میں کھڑی ہوگئ۔سارہ دم بخود یہ منظر دیکھ رہی تھی۔وہ بلی باہر جانے کی بجائے وہیں بیٹھ گئ۔سارہ ہمت کر کے اٹھی اور اسے بھگانے کی کوشش میں تھی اور بلی اسے دیکھ کر غرا رہی ھی۔چیخ سن کے اس کی ماں اور کام والی ماسی بھاگتی
آئ۔سارہ پھٹی آنکھوں سے کھڑکی میں دیکھ رہی تھی۔جبکہ کھڑکی خالی تھی
کھڑکی خالی تھی اس کی ماں نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا۔کہیں کچھ بھی نہ تھا۔مگر بیٹی کی حالت اس کی سمجھ سے باہر تھی۔اس دن کے بعد سے سارہ خوف زدہ سی رہنے لگی تھی۔کبھی چونک کر دائیں بائیں دیکھنے لگتی کبھی سوتے سے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھتی رہتی اب وہ چھت پر بھی نہ جاتی۔۔امتحان سر پر تھے اس کی ماں پریشان تھی کہ اس کی اگر یہی حالت رہی تو یہ تیاری کیسےکرے گی۔کچھ دنوں سے وہ بھی اپنی مصروفیت کو پس۔پشت ڈال کر پوری توجہ اپنی بیٹی کو ہی دے رہی تھی اس کی ایسی حالت کا سن کر اس کے بابا بھی جلدی پاکستان آگۓ تھے اور اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے۔ان کے کہنے پر قرآن پاک پڑھانے کے لیے حافظہ بھی گھر پر ہی آنے لگی تھی۔سارہ جب اس کے ساتھ وقت گزارتی تو بہتر ہو جاتی لیکن اس کے جانے کے بعد پھر سے وہی۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا تھا مسئلہ کیا ہوا ہے۔پھر اس کی ماں نے اپنی چھوٹی بہن کو تھوڑے دنوں کے لئے اپنے گھر بلوا لیا۔اس کے 4 بچے تھے۔سب سے بڑی بیٹی صدف , سارہ کی ہم عمر تھی۔اور اس کی اچھی دوست بھی۔وہ دونوں گھنٹوں باتیں کرتیں فلمیں دیکھا کرتیں لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ہاں مگر اتناا ضرور ہوا تھا کہ ان کے گھر میں آنے سے سارہ بھی تھوڑی بہل گئ تھی۔اس کی طبیعت میں بہتری دیکھ کر ماں باپ کی جان میں جان آئ۔پھر اس نے بھی امتحانات کی تیاری شروع کردی۔مگر اب وہ اپنے کمرے میں نہیں بلکہ صدف کے ساتھ گیسٹ روم میں سوتی تھی۔اپنے کمرے سے اسے ڈر لگنے لگا تھا۔ایک دن اس کی والدہ نے اس کے کمرے کی صفائ کروائ تو ایک عجیب بات ہوئ۔اس کے بیڈ کے نیچے سے 7۔8 مردہ کبوتر نکلے۔وہ کبوتر تازہ شکار ہوۓ تھے انکا خون بھی جماہوا نہ تھا۔”کچھ تو گڑبڑ ہے”اس کی ماں کے دل میں وسوسے پیدا ہونے لگے۔انہوں نے اس کا ذکر اس کے بابا سے کیا تو وہ بھی پریشان ہوۓ۔اور کسی عامل سے رابطے کا سوچا۔ان کے ایک دوست نے ایک بزرگ کا پتہ بتایا۔جب وہ ان کو لے کر اپنے گھر پہنچے تو انہوں نے گھر کے اندر آنے سے انکار کر دیا”بیٹا میں گھر میں نہیں آسکتا”وہ بولے۔”مگر کیوں بابا جی۔؟”اس کے بابا نے پوچھا۔”آپ کے گھر میں کسی کی آمد کے اثرات ہیں انکا مرکز وہ کونے والا کمرہ ہے۔اسی کمرے سے وہ رات کو نکلتے ہیں اور بھیس بدل کر گھومتے ہیں اپنا شکار لے کر پھر اسی کمرے میں چلے جاتے ہیں”انہوں نے سارہ کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔اس کے بابا کے دل میں خوف اور پریشانی کے ملے جلے احساسات سر اٹھانے لگے۔”پھر اس کا کیا حل ہے۔انہوں نے پوچھا”مجھے اس گھر سے باہر رہ کر اس بچی کے لئے پڑھائ کرنا ہوگی۔بس آپ یہ تعویز اس کے گلے سے مت اترنے دینا”۔میں اس جمعرات کی رات کو اپنے موکل کو روانہ کروں گا۔اللہ نے چاہا تو ضرور کوئ حل نکل آئے گا۔” یہ کہہ کر انہوں نے چاندی کا ایک تعویز انکے ہاتھ میں دیا اور چلے گئے۔سعید اور ان کی بیوی گھر کے اندر آگئے۔وہ سیدھا سارہ کے کمرے میں گئے۔اس کے کپڑے اور دوسری تمام ضروری چیزیں لے کر انہوں نے سارہ کو اوپر کے کمرے میں شفٹ کر دیا۔وہ کمرہ اب بلکل خالی تھااسے لاک کردیا گیا۔تھا اس کمرے میں ایک عجیب سی خون کی بو بسی رہتی تھی۔سارہ کو اس کی ماما نے اسی دن وہ تعویز پہنا دیا تھا۔وقت گزرتا رہا۔اس تعویز کی بدولت سارہ پہلے سے بھت بہتر ہوتی جارہی تھی۔اس نے پریشان کرنے والی حرکتیں بھی چھوڑ دی تھیں۔ صدف اور اس کی فیملی واپس جا چکی تھی اور سارہ توجہ اور دھیان سے اپنے امتحان دینے میں مصروف تھی۔اس کے بابا ایک دو دن کے لئے اپنے کسی کام کے سلسلے میں کراچی گئے ہوئے تھےجب وہ واپس آۓ تو بابا جی سے ملاقات کی۔انہوں نے بتایا کہ پڑھائ کے دوران انکو ایک عجیب بات معلوم ہوئ۔”میں نے جب اپنے موکل سے حساب لگوایا تو اس نے بتایا کہ آپ کے گھر کی بنیاد ایک پرانے درخت کی جڑوں پر رکھی گئ ہے۔یعنی اس گھر کے نیچے ابھی بھی کسی پرانے درخت کی باقیات موجود ہیں۔اور وہ درخت کسی عفریت کا مسکن تھی۔اس گھر کو بناتے وقت جو حصار کھینچا گیا تھا وہ اب لگ بھگ ٹوٹ گیا ہے۔اور وہ عفریت جسے اس کے خاندان سمیت بھگا دیا گیا تھا وہ پھر سے واپس آنا چاہتی ہے۔اور اس کمرے کے نیچے ہی اس درخت کی جڑ ہے۔”اس لیے وہ اس کمرے میں بس گئے ہیں۔”وہ جانا نہیں چاھتے”۔۔۔سعید صاحب یہ سن کر ششدر رہ گئے
قسط 2
سعید صاحب یہ سن کر ششدرہ رہ گئے۔”جی ہاں”بابا جی بولے۔”چونکہ آپ میں سے کسی کو بھی یہ کوئ نقصان نہیں پہنچا نا چاہتے اس لیے آپ ان کو پریشان کرنے یا بھگانے کے بارے میں نہ سوچیں۔وہ بس اپنے گھر میں رہنا چاہتے ہیں۔وہ کمرہ خالی کروادیں۔”وہ کمرہ تو خالی کروا لیا تھا پر کیا گارنٹی ہے کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔؟سعید صاحب کہنے لگے۔بابا جی نے کہا”آپ سب لوگ میرا دیا ہوا تعویز پہن لیں اور کچھ بھی ہو جاۓ اسے مت اتاریں۔وہ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے۔”بابا جی نے ان کو تین اور تعویز دیے”ایک بات اور’آپ یہ بات یاد رکھیں کہ گھر میں کبھی بھی کہیں بھی خون یا کوئ خون کا داغ نہ لگا رہنے دیں اگر کوئ ایسا کپڑا جس پر خون کے داغ ہوں یا برتن جس میں کچا گوشت ہو اسے اسی دن رات ہونے سے پہلے دھو کر خشک کر لیں۔اس کو رات بھر کے لئے نہ چھوڑیں۔کیونکہ انکو خون کی بو یاکچا گوشت بہت پسند ھوتا ہے۔یہ اسے کھانے آجائیں گے۔اور پھر بار بار گھر میں روپ بدل کر منڈلاتے پھریں گے۔پھر آپکو انکو ہر حال میں سیر کرنا ہوگا۔انکی خوراک کم نہیں ہوتی۔اور ایک وقت میں یہ 8,10 کلو کھا جاتے ہیں۔اور آخری بات۔۔۔۔۔”بابا جی خاموش ہوگئے سعید صاحب کو بے چینی ہونے لگی۔۔”انکو ہر گز ہرگز مارنے کی کوشش مت کرنا۔چاہے یہ کوئ روپ بدل کر آئیں۔مارنے سے یہ دشمن بن جائیں گے اور آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔”۔ سعید صاحب وہ تعویز لے کر گھر آگئے۔انکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔مسز سعید بھی یہ سب سننے کے بعد پریشان ہوگئیں سب کی عافیت اسی میں تھی کہ وہ چپ چاپ اس بات پر عمل کر لیں ۔اسکے علاوہ کوئ چارہ بھی نہ تھا۔سو بسم اللہ پڑھ کر سب نے وہ تعویز پہن لئے۔۔بظاہر سب نارمل لگنے لگا تھا سارہ نے فسٹ پوزیشن حاصل کی تھی سب بہت خوش تھے اور سارہ سب سے زیادہ اسے سکالر شپ مل گیا تھا پھر وہ بھی پڑھنے کے لیے باہر جا سکتی تھی۔رہنے کا بھی کوئ مسئلہ نہ تھا اس کے بابا بھی باہر تھے۔ وہ وہاں آرام سے رہ سکتی تھی۔گھر میں خوشیاں جیسے لوٹ آئیں تھیں سارہ بہت پر جوش تھی۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔کیا چھوڑے اور کیا رکھے۔اس کی ماما البتہ اداس تھیں کیونکہ وہ سارہ کے بعد اکیلی ہو جاتیں۔سب انکو مشورہ دے رہے تھے ک وہ بھی باہر شفٹ ہو جائیں۔مگر وہ اپنا کام چھوڑنے پر راضی نہ تھیں۔لیکن سب کے سمجھانے پر وہ بھی رضامندہو گئیں۔تیاریاں شروع ہوگئیں تھیں۔جانے میں بس کچھ ہی دن باقی تھے۔ایک دن سارہ کی ماما نے سارہ کو اوپر سٹور سے سوٹ کیس لانے کے لئے کہا۔۔کافی دیر گزر گئ مگر سارہ نیچے نہ آئ۔۔وہ اسکا انتظار کر کر کے جب خود اوپر جانے لگیں تو وہ جلدی سے سیڑھی اترتی نظر آئ۔”سارہ کہاں رہ گئی تھیں۔میں کب سے آواز دے رہی تھی”وہ بولیں۔”کچھ نہیں ماما–“و جلدی سے ان کے پاس سے گزر کے اندر چلی گئ۔وہ حیرانگی سے اسے جاتا دیکھتی رہیں۔جانے سے کچھ دن پہلے رشتےدارں سے ملنے جلنے کا سلسلہ شروع ہو گیا روز کبھی کسی نے دعوت رکھی ہوتی کبھی کسی نے۔اس دن جب سارہ اپنی خالہ کے گھر جانے کے لئے تیار ہورہی تھی تو یکدم بولی۔”ماما کل میوزیم جانا ہے مجھے پلیز بابا سے کہہ دیں۔”اس نے اتنے اصرار سے کہا کہ انکو اس کی بات ماننا ہی پڑی۔سارہ بہت ایکسائڈڈ تھی۔اسے میوزیم جانا بہت پسند تھا۔اگلے دن وہ لوگ میوزیم جانے کے لئے تیار ہو گئے۔جانے سے پہلے جب سعید صاحب اوپر سٹور روم لاک کر نے کے لئے گئے تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئ۔سٹور روم کے اندر خون کے چھینٹے تھے اور الماری کے پیچھے ایک سیاہ بلی مردہ حالت میں پڑی تھی۔خوف اور پریشانی کے ملے جلے احساس سے انکے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔نجانے اب کیا ہوگا۔انہوں نے جلدی سے ماسی کو بلوا کر کمرہ دھلوایا۔اور اس مری ہوئ بلی کو باہر پھینکوا دیا۔نیچے جاکر جب انہوں نے اس کا ذکر سارہ کی ماما سے کیا تو ان کا دل ہول گیا۔انہیں سارہ کی کل والی حرکت یاد آئ۔جب وہ کتنی دیر کے بعد نیچے آئ تھی۔انہوں نے سعید صاحب کو بتایا۔ انہوں نے جب سارہ سے پوچھا تو وہ ہنس ہنس کے بتانے لگی “اوہ بابا وہ۔۔۔۔۔۔ وہ تو کل جب سوٹ کیس لینے میں اوپر گئ تھی نہ تو ایک کالا سا بلی کا بچہ مجھ سے ڈر کر سٹور سے بھاگنے کے جگہ تلاش کر رہا تھا۔وہ کھڑکی سے باہر نکلنے لگا لیکن کھڑکی تو بند تھی میں نے وہاں پڑے ہوے پیپر ویٹ سے اسکا نشانہ لیا۔مارنے کے لیے نہیں صرف گرانے کے لئے ۔۔پر وہ سیدھا اسکے سر پہ لگا مگر ذرا زور سے لگا۔تو وہ تو وہیں ڈھیر ہوگیا میں نے اس کو اٹھا کر الماری کے پیچھے پھینک دیا۔اوہ ماما i hate cats”وہ مزے سے بتا رہی تھی۔اس کے بابا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔”ہو نہ ہو ۔۔ سارہ نے انجانے میں عفریت کے کسی بچے کو مار ڈالا تھا۔”۔۔۔۔
قسط 3
سعید صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔سارہ میں انجانے میں عفریت کے کسی بچے کو مار ڈالا تھا۔۔آگے بڑھنے سے پہلے آپکو عفریت کے بارے میں کچھ بتانا ضروری ہے
عفریت دراصل جنات کی نسل سے نہیں ہوتے۔یہ ہوائ مخلوق کی ایک الگ قسم ہے۔یہ عام جنات کی طرح آپ کو ڈراتے نہیں بلکہ دل میں وسوسے پیدا کرتے ہیں۔وہم ڈالتے ہیں روپ بدلتے ہیں اور جس جگہ قیام کرنے کا سوچ لیں وہاں سے کسی کا باپ بھی نکال نہیں سکتا سخت جان ہوتے ہیں۔ جلدی مرتے نہیں ہزاوں سال جیتے ہیں۔خون کی بو اور کچا گوشت کی ہمک لمحہ بھر میں پہچان لیتے ہیں۔اپنے بچوں کی حفاظت بہت کرتے ہیں۔جس پر عاشق ہوجائیں اسے مرتے دم تک نہیں چھوڑتے۔چھوڑنے پر مجبور کیا جاۓ تو اس کی جان لے لیتے ہیں۔اسےکھا جاتے ہیں۔گھر کے کونوں کھدروں ۔ویرانوں اور تاریک جگہوں پر رہنا پسند کرتے ہیں۔جو ان سے ڈرتا ہو اسے مزید خوف زدہ کر کے خوش ہوتے ہیں۔اور اگر کوئ ان سے دشمنی مول لینے کی غلطی کر بیٹھے۔تو گروہ کی شکل میں حملہ کر کے کچھ ہی وقت میں اسے کھا جاتے ہیں ان کا مقابلہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو حقیقت میں صاحب علم ہوں جن کا دل بے خوف اور کلام الہی سے بھرا ہوا ہو۔
آئے اب کہانی کی جانب چلتے ہیں۔۔
سعید صاحب کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا ہوگا۔وہ کس طرح آنے والی مصیبت سے بچ سکیں گے۔انہوں نے میوزیم جانا کینسل کر دیا۔پہلے اس نادانستگی میں کی گئ غلطی کا حل نکالنا ضروری تھا۔سارہ نے جب اپنا پروگرام کینسل ہونے کا سنا تو منہ بنا کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔اس کی ماما انتہائ پریشان تھیں “اب کیا ہوگا سعید صاحب۔۔۔”انہوں نے پوچھا۔
“اللہ پر بھروسہ رکھو میں بابا جی سے رابطہ کرتا ہوں۔”وہ اپنا فون اٹھا کر گھر سے باہر چلے گئے۔
وہ ابھی باہر لان میں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ بابا جی کی کال آ گئ۔”ہیلو سعید صاحب۔۔ آپ اسی وقت میرے گھر تشریف لائیے”بہت ضروری بات ہے” یہ کہہ کر انہوں نے کال کاٹ دی۔ان کو ایک غلطی کا شک تو پہلے ہی تھا اب یقین ہو گیا کہ کچھ بہت برا ہو گیا ہے۔وہ اسی وقت گاڑی کی چابی لے کر چلے گئے۔
سہ پہر کے وقت ان کی واپسی ہوئ تو انہوں نے سارہ کی ماما کو پورچ میں بے چینی سے ٹہلتے پایا۔”اتنا وقت لگا دیا۔کیا کہا باباجی نے؟”کوئ حل تو نکل آیا نا۔۔” انہوں نے آتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔۔وہ چپ چاپ کار لاک کر کے اندر چلے گئے۔وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے اندر چلی آئیں۔اندر آکر انہوں نے سعید صاحب کو چپ چاپ صوفے پر بیٹھےدیکھا تو ان سے رہا نہیں گیا۔وہ ان کے قریب ہی بیٹھ گئیں۔”کیا بہت پریشانی کی بات ہے۔بتانا نہیں چاہ رہے؟۔اچھا بس اتنا بتا دیں ہماری بیٹی سے جو غلطی ہوئ۔اس کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔۔؟”۔انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔ان کا دل دھک سے رہ گیا۔”کیا ۔۔۔ کیا مطلب ہے کہ کوئ حل نہیں۔۔۔۔؟ وہ بچی ہے سعید صاحب۔۔” جانتا ہوں۔۔۔وہ بولے۔”جانتا ہوں کہ وہ بچی ہے انجانے میں یہ سب ہو گیا اس سے۔۔۔ مگر یہ بات اس عفریت کو نہیں سمجھائ جا سکتی۔” بابا جی کے پاس مجھے کافی وقت لگ گیا ہے۔اس ساری پریشانی سےدماغ ماؤف ہو رہا ہے پلیز ایک کپ چاۓ بنوادو۔”وہ اپنے ہاتھ سے پیشانی کو ملتے ہوۓ گویا ہوۓ۔ مسز سعید نے ماسی سے چاۓ بنانے کا کہا اور واپس آکر ان کے پاس بیٹھ گئیں۔”باباجی نے مجھے کال کر کے فورا آنے کا کہا تو میں اسی وقت نکل گیا۔”وہ بتانے لگے۔” جب انکے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بابا جی اپنے حجرے کے اندر پریشان بیٹھے ہیں اور اس حجرے کی دیواروں پر خون کے دھبے ہیں۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کے دو موکلوں کو اس عفریت نے مار ڈالا ہےان کے ادھ کھاۓ جسم اس کمرے میں لا کر ڈال دئیے۔کیو نکہ اس کو علم ہو گیا تھا کہ ہم ان کے ذریعے سے اس پر نظر رکھے ہوۓ ہیں۔وہ غصے سےپاگل ہو رہے ہیں وہ تعداد میں چار رہ گئے ہیں کیونکہ ان کا ایک بچہ جو ابھی کچھ سالوں کا ہی تھا سارہ کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اب وہ پوری قوت سے وار کرنا چاہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے استاد محترم سے اس کا حل نکلواتا ہوں تب تک آپ میں سے کوئ بھی میرے دئیے گئے ان تعویزوں کو بلکل نہ اتارے۔ورنہ اس کی وہ حفاظت نہ کر سکیں گے۔”اتنا کہہ کر انہوں نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں تھوڑی دیر کے بعد جب ماسی چاۓ لے کر آئ تو انہوں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ کہا۔”سارہ کہاں ہے؟” “اپنے کمرے میں ہے غصہ سے منہ پھلایا ہوا ہے اور ناراض بیٹھی ہے کھانے سے بھی منع کر دیا ہے۔اس کا پلان کینسل ہو گیا نا”۔۔ وہ بتانے لگیں۔”اس کو بلواؤ۔میں بات کرتا ہوں میری بات مان لے گی۔”وہ چاۓ پینے لگے تو وہ اسے بلانے چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارہ نے جب سنا کہ میوزیم جانا کینسل ہو گیا ہے تو وہ ناراض ہو کر اپنے کمرے میں آگئ۔ڈوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکا۔چوڑیاں سائیڈ ٹیبل پر اتار پھینکیں۔گلے میں پہنی ہوئ مالا بھی اتار دی سینڈل اتارنے لگی۔اس کے بکھرے بال باربار تعویز کے ساتھ الجھ رہے تھے۔اس نے جھنجلا کر وہ تعویز بھی گلے سے اتار کر ٹیبل پر پھینک دیا۔۔۔”کسی تعویز کی ضرورت نہیں مجھے۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔” یہ کہہ کر اس نے زور سے دروازہ بند کیا کپڑے بدل کر ٹراؤزر شرٹ پہنی اور چادر سر تک اوڑھ کر لیٹ گئ۔۔ماسی کھانے کا کہنے آئ تو اسے بھی ڈانٹ کر بھگا دیا۔ “سارہ بیٹا ۔۔۔ آپ کے بابا بلوا رہے ہیں۔مسز سعید نے اس کے کمرے کا دروازہ ناک کیا۔”مجھے نہیں بولنا بابا جان سے۔”وہ وہیں سے لیٹے لیٹے بولی۔”بری بات ہے سارہ۔آپ اس طرح سے بات نہیں کر سکتیں۔فورا نیچے آجائیے۔۔۔
ورنہ بابا کو اندازہ ہو جاۓ گا کہ آپ انتہائ لاپرواہ اور خود پسند گرل ہیں۔” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دروازہ کھل گیا۔وہ منہ پھلاۓ ہوۓ باہر نکلی”اسے دیکھ کر انہیں ہنسی آگئ۔۔۔”یہ آپ کیوں ہنس رہی ہیں “وہ روٹھے لہجے میں بولی۔
“آپکو اس طرح ناراض دیکھ کر ۔۔۔۔ خیر ۔۔نیچے چلیں آپ کے بابا بلوا رہے ہیں۔”وہ اسے لے کر نیچے چلی گئیں۔وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ اپنی بیٹی کو آخری بار اس طرح اپنے قریب دیکھ رہی ہیں۔۔
قسط 4
سارہ منہ پھلاے ہوۓ نیچے آئ۔انکو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کس بات پر ناراض ہے۔پھر بھی انہوں نے انجان بنتے ہوۓ بات شروع کی۔”کیا بات ہے آپ نے کھانے پر آنے سے منع کردیا کوئ خاص وجہ؟”نہیں بابا بھلا کیا وجہ ہوگی۔۔”وہ بجھے لہجے میں بولی”اصل میں میں ایک کام میں مصروف تھا اس لیے کل آپکو لیجا نہیں سکا۔”انہوں نے بات بنائ۔”سارہ آپ کے کارناموں کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل درپیش ہے۔پتہ ہے آپ کی کل والی حرکت کا کیا نتیجہ نکلا۔”قریب تھا کہ اس کی ماما ساری بات بتادیتیں انکے بابا نے بات بیچ میں کاٹ دی”کچھ نہیں ہوا کل۔آپ موڈ ٹھیک کریں۔کل انشااللہ ہم ضرور میوزیم جائیں گے۔”چلیں منہ ہاتھ دھو کر آئیں۔کھانا لگ گیا ہے۔”ان کی بات سن کر اس کے چہرے پر خوشی چھلکنے لگی وہ جلدی سے واش بیسن کی طرف بڑھ گئ۔”آپ اس سے اس موضوع پر کوئ بات نہیں کریں گی۔میں نہیں چاہتا کہ وہ پھر سے پہلے جیسے ڈرنے لگے۔۔سعید صاحب نے سمجھایا۔وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گئیں۔اگلے دن انہوں نے میوزیم جانے کا ارادہ کیا۔۔ مگر کاش کہ وہ یہ ارادہ نہ ہی کرتے کاش کہ وہ اس بات کو ملتوی ہی رکھتے۔مگر ہونی کو کون ٹال سکا ہے۔ان کے انگلینڈ جانے میں کچھ ہی دن باقی تھے اگلے ہفتے ان کی فلائیٹ تھی۔وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی اپنے ملک سے اچھی یادیں لے کر جاۓ۔مگر آگے کیا ہونے والا تھا کوئ اس سے باخبر نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا جی نے اپنے استاد محترم سے ملنے کا فیصلہ کیا۔وہ بلوچستان کے ایک دور دراز گاؤں میں مقیم تھے۔ان تک پہنچنے میں تقریبا دو دن لگ گئے۔ ان کی عمر 90 برس سے زائد ہو چکی تھی۔ان کا نام محمد عبدالرحمان تھا۔وہ سفر نہیں کر سکتے تھے۔اس لیے ان کے بیٹے ان کو پنجاب سے اپنے آبائ گاؤں لے گئے تھے۔بابا جی سے وہ فون پر رابطہ میں رہتے تھے۔وہ اور ان کے گھر والے بڑے تپاک سے ملے۔انکو ٹھہرنے کے لیے استاد محترم کے ساتھ والا کمرہ دیا گیا۔کھانے اور آرام کے بعد بابا جی ان سے ملاقات کے لیے ان کے کمرے میں گئے۔”آپ جانتے ہیں کہ میں سعید صاحب کے مسئلے کے حل کے لیے حاضر ہوا ہوں۔” عبدالرحمان صاحب گویا ہوۓ”وہ عفریت کوئ عام مخلوق نہیں ہے وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہزاروں سال سے اس گھر کے نیچے موجود درختوں کی جڑوں میں آباد تھی۔اس گھر کے بنانے کے وقت جب اس درخت کو کاٹا گیا تو اسے میرے ہی ایک دوست نے حصار میں قید کیا تھا اور اس وقت بھی وہ بپھری ہوئ تھی کسی سے اسکا گھر چھین لو تو کیا وہ خوش رہ سکتا ہے بھلا۔”پھر بھی اس نے برداشت کیا اور اس درخت کی جڑوں کو نہ کاٹنے کا وعدہ لیا۔اس نے بدلے کے طور پر اس گھر اور اس کے مکینوں کو نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کیا۔ہم نے درخت کی جڑوں کو وعدے کے مطابق چھوڑ دیا۔مگر پھر بھی میرے دوست غلام بخش نے حصار قائم کردیا اور اس کی حدود بنا کر وہاں ایک سیاہ پتھر گاڑھ دیا۔۔اس بات کو برسوں بیت گئے غلام بخش بیچارہ دمے کا مریض بھی تھا وہ 6 سال پہلے انتقال کرگیا۔اب اتنے سالوں بعد جب اس گھر کی بنیاد رکھی گئ تو مجھے لگتا ہے کہ کسی سے وہ سیاہ پتھر اس مخصوص مقام سے ہٹ گیا ہے جہاں غلام بخش نے گاڑھا تھا۔اور اس کا حصار ٹوٹ گیا۔وہ عفریت باہر نکل گئ۔مگر اس نے وعدے کے مطابق کسی مکین کو نقصان نہیں پہنچایا۔وہ روپ بدل کر سیاہ بلی کی شکل میں وہاں گھومتی تھی۔رات کو واپس نیچے چلی جاتی۔مگر ان کی بیٹی سے جو غلطی سرزد ہوئ ہے۔اس وجہ سے وہ غصہ میں آگئ ہے۔”عبدالرحمان صاحب نے تفصیل سے بات بتائ۔”وہ بدلہ تو لے گی برخوردار”مگر کس سے معلوم نہیں ابھی۔”بابا جی سوچ میں پڑ گئے۔”کیا سوچتے ہو۔۔”انہوں نے پوچھا”میں سوچ رہا ہوں حفاظت کا جو تعویز میں نے انکو دیا ہے وہ کب تک بچا سکے گا۔۔”بابا جی بولے۔”اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے وہ معمولی تعویز نہیں آیت الکرسی کا ہے معلوم ہے نہ کہ کتنی طاقت ہے۔وہ انکی حفاظت کرے گا۔۔مگر اگروہ اس کے وسوسوں میں آکر اتاریں گے تو جان سے جائیں گے۔۔”استاد محترم نے کہا۔میں ان سے رابطہ کر کے ان کو بتانا چاہتا ہوں”۔وہ بولے ۔بالکل بتادو بلکہ ابھی بتاؤ تاکہ وہ کسی بھی وجہ سے اسے نہ اتاریں وہ موقع کی تلاش میں ہے اب دل میں وسوسہ ڈالے گی کہ وہ اسے اتار دیں۔”۔استاد محترم نے ممکنہ صورت حال سے آگاہ کیا۔بابا جی اٹھ کر باہر چلے گئے۔استاد صاحب اپنی تسبیحات لے کر ایک عمل میں مشغول ہو گئے۔پریشان لوگوں کو وہ کبھی بے یارومددگار نہیں چھوڑتے تھے۔
بابا جی نےسعید صاحب کےموبائل پر کال کی۔۔ مگر کال ریسیو نہ ہوئ۔وہ کافی دیر تک نمبر ملاتے رہے مگر بات نہ ہو سکی۔انہیں پریشانی ہونے لگی۔وہ چاہتے تھے کہ جلدسےجلد انکو یہ بات بتادیں مگر کوئ فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلیں نا بابا۔۔سارہ اپنے بابا جان کے پیچھے لگی ہوئ تھی۔
“چلو بیٹا مگر اپنی ماما کو بلا کر لاؤ اور میرا موبائل بھی چارجنگ پر سے اتار کر لے آنا”۔۔سارہ سر ہلاتی اپنی ماما کے کمرے میں گئ۔”ماما”۔۔۔اوہ واؤ ماما۔۔۔۔ آپ تو بھت پیاری لگ رہی ہیں اس نے اندر آتے ہی بولنا شروع کیا”ہے نا۔”وہ ڈریسنگ کے آگے کھڑی دوپٹہ اوڑھ رہ تھیں۔”بابا بلا رہے ہیں چلیں نہ اب دیر ہو رہی ہے اور وہ بابا کا موبائل بھی چارج سے اتار کر لے آئیں”وہ ان کو کہہ کر باہر نکل آئی”ہاں بھئ کہاں ہیں تمھاری ماما “- وہ بولے۔”وہ آرہی ہیں آپکا موبائل بھی انکے پاس ہے” وہ بولی ۔اس کی ماما بھی اس کے پیچھے پیچھے اپنا دوپٹہ سنبھالتی آگئیں جلدی جلدی میں وہ موبائل چارج پر لگا ہی چھوڑ گئیں۔اور وہ تینوں گاڑی میں جا کر بیٹھ گئے۔ڈرائیور نے گاڑی باہر نکالی اور وہ تینوں اپنے انجام سے بے خبر اپنی موت کی جانب گامزن ہوگئے۔
قسط 5
وہ اپنی موت کی طرف رواں دواں تھے۔سعید صاحب نے یہ نہیں دیکھا کہ سارہ کے گلے میں مالا تو ہے پر تعویز نہیں۔وہ تعویز اسکے کمرے میں رکھی میز پر پڑا رہ گیا۔وہ خوشی سے پرجوش تھی اور اسکی خوشی میں اسکے ماں باپ خوش تھے۔مگر یہ خوشی عارضی تھی۔
————————-
ادھر بابا جی کال پر کال کر رہے۔تھے مگر کوئ کال نہیں اٹینڈ کر رہا تھا۔انہوں نے گھر کے نمبر پر فون کیا تو ان کے کسی ملازم نے بات کی اس نے بتایا کہ صاحب تو اپنا موبائل گھر ہی چھوڑ گئے ہیں۔یہ سن کر انکی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا۔وہ ہر قیمت پر ان سے رابطہ کرنا چاہتے تھے۔مگر سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کریں۔
————————–
سعید صاحب اور ان کی فیملی میوزیم پہنچ گئے۔سارہ بہت خوش تھی وہ جلدی سے اندر جانا چاہ رہی تھی۔ڈرائیور گاڑی پارکنگ میں لے گیا اور وہ لوگ داخلی دروازے سے اندر چلے گئے۔سعید صاحب ٹکٹس لے کر آئے تو سیکیورٹی نے انکو موبائل اندر لیجانے سے منع کیا اور باہر جمع کروانے کو کہا جب انہوں نے موبائل جمع کروانے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو انکو یاد آیا کہ انکا موبائل انکے پاس نہیں سارہ کی ماما سے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ موبائل تو وہ جلدی میں گھر ہی چھوڑ آئ ہیں۔۔۔انہیں بہت پریشانی ہوئ “باباجی نے کال کرنی ہوئ تو کیسے رابطہ ہوگا۔پھر کچھ سوچ کر انہوں نے ڈرائیور سے کہا,”اکرم۔۔وہ جمشید کو فون کر کے بتادو کہ بابا جی سے رابطہ کر لیں اگر انہوں نے کوئ ضروری بات کہنی ہو تو انکو بتا دیں وہ پھر تمہارے نمبر سے ہم سے رابطہ کر لے گا۔”اکرم سر ہلا کر بتاۓ ہوۓ نمبر پر کال کرنے لگا۔جمشید وہی دوست تھا جس نے سعید صاحب کی ملاقات باباجی سے کروائ تھی۔اس طرف سے مطمئن ہو کر وہ اندر چلے گئے۔سارہ کی خوشی دیدنی تھی وہ ہر ہر چیز کا بغور جائزہ لے رہی تھی ۔ہر چیز اچھی طرح سے دیکھ رہی تھی اس پر تبصرے کر رہی تھی۔ہر کیبن میں رکھی ہوئ عجائبات کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔تھوڑی دیر کے لئے وہ لوگ بھی اس مصیبت کے بارے میں بھول گئے جو انکو درپیش تھی۔
باباجی مایوس ہو کر اندر کی جانب جانے لگے تو انکا فون بج اٹھا۔یہ جمشید کی کال تھی۔انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کسی طرح سے سعید تک انکا پیغام پہنچ جائے گا۔”ہیلو۔۔اسلام علیکم بابا صاحب وہ سعید نے کہا ہے کہ کوئ بات کہنی ہو تو مجھ سے رابطہ کریں کیونکہ اسکا فون گھر پر رہ گیا ہے۔وہ اپنی فیملی کے ساتھ باہر گیا ہے۔اس کی بات پوری ہوتے ہی وہ بولے۔۔” ۔جمشید۔۔۔ تم سے بہت ہی ضروری بات کرنی ہے ۔۔”حکم کریں بابا صاحب ۔۔اس نے جواب دیا۔۔بابا جی اسکو تفصیل سمجھانے لگے۔۔پوری بات سننے کے بعد اس نے مدد کرنے کی پوری یقین دہانی کروائ۔اور کال منقطع کر دی بابا جی کچھ مطمئن نظر آرہے تھے۔وہ کچھ دیر ادھر کھڑے رہے پھر تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئے۔
جمشید بابا جی سے بات مکمل کرتے ہی تیزی سے باہر نکل گیا۔وہ خود جاکر جتنی اچھی طرح بات سمجھا سکتا تھا شائد کال پر اسے سمجھ نہ آتی۔۔
“ماما وہ دیکھیں وہ کتنے کیوٹ ماڈلز ہیں”سارہ نے سامنے کیبن میں رکھے ہوئے ماں اور بچے کےماڈلز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔سارہ چھوٹے بچوں کی طرح پرجوش ہورہی تھی۔سارہ کی ماما اس سے دو قدم پیچھے تھیں مگر اس کے قریب ہی تھیں سعید صاحب نے سارہ کو دیکھا تو انہوں نے نوٹ کیا کہ اس کے گلے میں وہ تعویز نہیں ہے۔انکا دل جیسے وسوسوں سے بھر گیا”۔ذرا میری بات سنیں۔”انہوں نے مسز سعیدکو بلایا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوگئی۔اور وہ آگے نکل گئ۔۔۔میوزیم میں دیکھتے دیکھتے سارہ اس کے اس حصے کی جانب بڑھ گئ جو عام طور پر لوگوں کے لئے کھولا نہیں جاتا تھا۔ آج وہ کیسے کھلا ہوا تھا یہ بات سمجھ سے باہر تھی۔وہ چلتے چلتے اس طوف چلی گئ۔وہاں روشنی قدرے کم تھی ۔یہ ایک نسبتا چھوٹا کمرہ تھا۔اس میں زمانہ قدیم کے کچھ ہتھیار تھے۔پرانے تیر کمان,کچھ تلواریں اور ایک حصے میں قدیم طرز کے کچھ اوزار بھی تھے وہ بغور اسکا جائزہ لے رہی تھی۔اس کمرے کے ایک حصے میں کچھ ایسی چیزیں تھیں جن کا مسلمان تاریخ سے کوئ واسطہ نہ تھا وہ کسی یہودی ملک کا تحفہ تھیں۔ان میں قیدیوں کو سزا دینے والی مختلف چیزیں تھیں ۔لوھے کی بڑی بڑی کنگھیاں۔آری کی طرح نوک دار نشست کی کرسیاں جن پر سزایافتہ قیدیوں کو زبردستی بٹھایا جا سکتا تھا۔اور انکے اوپر وزن رکھ دیا جاتا تھا۔وہ نوکیلے کنارے جسم میں پیوست ہوجاتے اور وہ زخمی ہونے کی تکلیف اور خون کے بہہ جانے کے باعث انتقال کر جاتے۔ایک پانچ فٹ لمبی بینچ تھی اس کے سرہانے دونوں سروں پر دو لکڑی کے موٹے ڈنڈے نصب تھے۔ان ڈنڈوں کے اوپری کناروں کے درمیان ایک تیز دھار ٹوکہ نما آلہ نصب تھا۔اس کے سرے پر رسی لٹکی ہوئ تھی اس بینچ کے نیچے ایک بالٹی جیسا گہرا برتن تھا۔قیدیوں کو اس پر لیٹا کر اوپر لٹکتی رسی کو کھینچتے تو تیز دھار ٹوکا تیزی سے نیچےگرتا اور اس کی گردن اتار دیتا۔وہ قریب جاکر اسکے بینچ پر ہاتھ لگانے لگی۔اس بات سے بے خبرکہ نجانے کب سے اس تیز دھار ٹوکے کے اوپر زرد آنکھوں والی ایک سیاہ بلی بیٹھی سارہ کو غور سے دیکھ رہی ہے۔
“آپ نے سارہ کو بتایا نہیں تھا کہ تعویز کسی حال میں نہیں اتارنا۔”بتایا تھا۔’وہ بولیں ۔”مگر اس کے گلے میں اس وقت کوئ تعویز نہیں”وہ حیرانگی سے انکا منہ دیکھنے لگیں پھر سارہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔”سارہ ۔۔۔ بیٹا آپ نے وہ تعویز گلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات بیچ میں رہ گئ۔سارہ انکے ساتھ نہیں تھی۔۔
قسط 6
سارہ اس بلی سے بے خبر تھی۔جو اسی پر نظر رکھے ہوئے تھی۔وہ آہستہ آہستہ اس بینچ کے قریب چلی گئ۔اس کے دل میں عجیب خیالات آرہے تھے۔اس بینچ پر لیٹ کر کیسا لگتا ہے۔۔۔؟ وہ سوچوں میں گم جیسے کسی مخلوق کے زیراثر بڑھتی چلی جارہی تھی ۔۔
۔مسز سعید نے سارہ کو آواز دی مگر اس کی طرف سے کوئ جواب موصول نہ ہوا۔انکے پیرونں تلے زمین نکل گئ۔سعید صاحب پریشانی سے ادھر ادھر ڈھونڈنے لگے۔مگر وہ تو انکے پاس تھی ہی نہیں اس کے والدین پاگلوں کی طرح اسے پورے میوزیم میں تلاش کرتے پھر رہے تھے۔سیکیورٹیز کو اطلاع دے دی گئ تھی تمام داخلی خارجی دروازے بند کر دیےتھے ۔مگر سارہ تھی کہ ملنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔مسز سعید کا رو رو کے برا حال تھا وہ پاگلوں کی طرح سارہ کو آوازیں دے رہی تھیں۔ تمام جگہ اس کی تلاش جاری تھی۔ مگر کوئ سراغ نہیں مل رہا تھا سعید صاحب اس وقت کو کوس رہے تھے جب وہ میوزیم آئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارہ اس بینچ پر بیٹھ گئ۔اس پر آج بھی کچھ پرانے نشانات موجود تھے۔اس نے دھیرے سے اس کے اوپر ہاتھ پھیرا۔اور آرام سے اس بینچ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔سیاہ بلی کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئ۔اور وہ بجلی کی تیزی سے اس کے اوپری سرے پر آکر غرانے لگی۔۔۔سارہ نے آنکیھں کھولیں تو بلی اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔وہ خوفزدہ ہوکر اس بینچ سے اٹھنے لگی تو اسکے گلے میں پڑی مالا بینچ کی ایک آدھی ابھری ہوئ کیل میں پھنس گئ۔سارہ کا گلہ کھنچنے لگا۔وہ سیاہ بلی ٹوکے کے ایک سرے سے دوسرے سرے پر چلنے لگی۔اور درمیان میں آکر کھڑی ہوگئ۔۔ٹوکا اس کے وزن سے سرکنے لگا تھا۔سارہ سے بوکھلاہٹ میں وہ مالا کیل سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔اس نے وہیں سے لیٹے لیٹے چیخنا شروع کردیا۔۔۔شور کی آواز سن کر سب لوگ اسی کمرے کے باہر آکھڑے ہوئے۔مسز سعید زور زور سے دروازہ پیٹنے لگیں۔”سارہ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔سارہ بیٹا۔۔۔”۔۔”ماما میں پھنس گئ ہوں۔۔۔مجھے نکالو یہاں سے۔۔” وہ وہیں لیٹے ہوۓ چیخی۔۔”ورنہ یہ بلی مجھے مار دے گی۔”بلی کا سن کر سعید صاحب چونک گئے۔۔ہونہہ یہ اسی عفریت نے کیا ہے۔”انکے دل میں خیال آیا۔
“بابا۔۔۔۔ بابا بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز مجھے بچالیں۔”سارہ کی آواز سن کر وہ جیسے ہوش میں آۓ۔سیکیورٹیز بھی ادھر پہنچ گئیں کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ دروازہ کس نے کھولا۔یہ تو عرصہ دراز سے بند پڑا تھا۔کبھی بھی اسے کھولا نہیں گیااور اگر وہ کھلتے بھی تو ایک گارڈ اس کے باہر ھمیشہ موجود رہتا تھا۔اب اس طرح
سارہ ابھی تک پھنسی ہوئ تھی۔وہ مالا اس کے گلے سے جیسے چپک کے رہ گئ تھی۔نہ ٹوٹ رہی تھی نہ اتر رہی تھی۔سارہ کا گلہ گھٹ رہا تھا۔بلی نے ایک چھلانگ ماری اور اس کے قریب آکھڑی ہوئ۔اسکا چہرہ عام بلیوں جیسا نہ تھا۔بلکہ اس کی آنکھیں کسی مردہ بچے کی لگ رہی تھیں۔اور کان بھی ۔پنجوں کے ناخن لمبے اور نوک دار تھےپھراس کا قد نکلنے لگایہاں تک کہ اس کا سر چھت سے جا لگاہاتھ لمبے ہو کر زمین کو چھونے لگے۔ناخن مڑ گئے۔اور بال لمبے ہوکے کمر سے نیچے جھولنے لگے۔آنکھیں سیاہ گڑھوں میں بدل گیئں اور زبان سرخ رنگ کی بار بار سانپ کی طرح ہل کھا کر اس کے منہ سے باہر نکل رہی تھی ۔اور اسکے کان کے قریب آکر بولی۔”تجھے میں کبھی نہیں بھولوں گی۔میری اولاد کی جان لی ہے تو نے کب سے میں اس موقع کی تاک میں تھی۔اچھا ہوا تیرے گلے میں وہ تعویز نہیں۔”اتنا کہہ کر وہ چھلانگ مار کر دوبارہ اس بینچ پر چڑھ گئی آہستہ آہستہ بلی کے روپ میں واپس آنے لگی ۔۔اور پھر پہلے کی طرح بلی کا روپ بدل کر اس رسی پر پنجہ مارنے لگی۔سارہ عفریت کے اس بھیانک روپ کو دیکھ کر ساکت رہ گئی تھی۔اس نے چیخنا بند کر دیا تھا۔اس کا سانس بند ہونے لگا۔۔بلی نے دو تین بار کوشش کے بعد وہ رسی دبوچ لی۔اور اسے منہ سے پکڑ کر کھینچنے لگی۔۔سارہ نے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔اسے اپنا انجام واضح نظر آرہا تھا۔ٹوکا چونکہ زنگ آلود تھا تو وہ یک بارگی سے نیچے نہیں آرہا تھا۔مگر درمیان میں آکر پھنس گیا تھا اب اس کے اور سارہ کی گردن میں بمشکل آدھے فٹ کا فاصلہ تھا۔اتنے میں دیوار کے اندر سے مزید 5,6 بلیاں نمودار ہوئیں اور ایک دوسرے پر چڑھ کر اس رسی کو کھینچنے لگیں۔ٹوکا مزید قریب آگیا۔۔۔سارہ خوف سے تقریبا نیم بے ہوش تھی اس کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمشید بڑی مشکل سے میوزئیم پہنچا مگر گیٹ بند تھے اور اندر ہونے والے حادثے کے باعث مزید لوگوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔اس نے فون پر رابطے کی کوشش کی تو کال ریسیو نہ ہوئ۔وہ پریشانی سے گروانڈ میں ٹہلنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیاں مل کر بین ڈالنے لگیں کمرے میں عجیب ماحول بن گیا۔سارہ نے کوشش ترک کردی۔اور خود کو حالات کے رحم وکرم پر ڈال دیا۔اس کی تمام کوشیشیں بے سود تھیں۔یکایک وہ سیاہ بلی اس ٹوکے پر چڑھ گئی۔اس کے چڑھنے سے وہ یک دم تیزی کے ساتھ نیچے گرا۔۔سارہ کی گردن سے خون کا فوارہ نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی سے زیادہ گردن کٹ گئی۔سارہ کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی۔اس نے دونوں ہاتھ گلے پر رکھ لیے۔اتنے میں کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور سارہ نے بند ہوتی آنکھوں سے سیکیورٹیز کے ساتھ اس نے اپنے ماں باپ کو اندر آتے دیکھا اور اس کی گردن ڈھلک گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمشید باہر ٹہل ٹہل کر انکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک ایمبولنس میوزیم کے احاطے میں داخل ہوئی۔وہ جلدی سے اس کی طرف بڑھا۔دو رضاکار تیزی سے اسٹریچر لے کر اندر گئے۔اس کا دل ہولنے لگا۔ہونہہ کچھ بہت برا ہوا ہے۔وہ دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارہ کی ماں نے جب اسے اس طرح پھنسے ہوئے دیکھا تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔۔ سعید صاحب بھاگتے ہوۓ اس کے قریب آۓ۔وہ بے ہوش تھی۔دو گارڈ جلدی سے آگے بڑھے اور سارہ کو اس ٹوکے سے آزاد کروایا۔اس کی مالا ٹوٹ کر کمرے میں بکھر گئی۔سعید صاحب نے اسے جلدی سے اسٹریچر پر لٹایا۔اور جلدی سے باہر کی طرف بھاگے۔۔باہر نکلتے ہوئے انکی بظر اندر کی طرف پڑی تو خوف کی ایک سرد لہر انکے جسم میں دوڑ گئی۔5,6 بلیاں اس بینچ کے پیچھے بیٹھ کر خون چاٹ رہی تھیں اسی وقت ایک بلی نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
آخری قسط
سعید صاحب کی نظر بینچ کے نیچے پڑی۔وہاں 5۔6 بلیاں خون چاٹ رہیں تھیں۔اچانک ان میں سے ایک بلی نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا۔اس کی مردہ آنکھوں میں عجیب ساتاثر تھا۔خوف کی ایک لہر انکے جسم میں پھیل گئ۔بلی انکو دیکھ کر مسکرائ۔اور دوبارہ منہ خون پر رکھ دیا۔وہ سر جھٹک کر جلدی سے باہر نکل گئے۔سارہ کی سانس اکھڑ رہی تھی۔مسز سعید نیم جان سی حالت میں ساتھ ساتھ باہر تک آئیں۔جیسے ہی وہ باہر نکلے جمشید کی نظر ان پر پڑی وہ بھاگ کر ان کے پاس آیا۔”سعید یہ سب کیا۔۔۔۔۔”سارہ کو دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین سرک گئی۔”اوہ میرے خدا۔۔۔وہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔دونوں وارڈ بواۓ سارہ کو گاڑی میں لیجا چکے تھے۔سعید صاحب نے بھرائ ہوئ آواز میں کہا۔”بعد میں بتاؤں گا ابھی میرے ساتھ چلو”وہ تیزی سے گاڑی میں آکر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔انہوں نےگاڑی ایمبولنس کے پیچھے لگا دی۔ایمبولنس تیزی سے سول ھاسپٹل کی جانب رواں تھی۔وہ تینوں رستہ بھر خاموش رہے۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد مسز سعید کی سسکیاں خاموشی کو توڑ رہیں تھیں۔ایمبولنس مین گیٹ کے آگےجا کر رک گئی۔ان لوگوں کی گاڑی بھی پیچھے پیچھے پہنچ گئی۔سارہ کو جلدی سے ایمرجنسی روم لیجایا گیا۔جہاں اسے فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کر کے آپریشن شروع کردیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روم کے باہر سارہ کے والدین بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔تھوڑی دیر میں سارہ کی خالہ اور ان کی بیٹی بھاگتی آئیں۔انہیں دیکھ کر مسز سعید دوبارہ سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔جمشید سعید کے پاس آگیا۔
“یہ سب کیسے ہوا سعید ۔۔۔؟”انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔۔
“کچھ نہ پوچھو یار میری قسمت ہی خراب تھی۔”انہوں نے شروع سے آخر تک کا تمام قصہ اسے سنایا۔کہ آج کیا کیا ہوا۔۔”سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ میں نے گھر سے نکلتے ہوۓ اس کا تعویز چیک نہیں کیا۔ورنہ شائد یہ سب نہ ہوتا”۔
مجھے بابا صاحب نے کال کی تھی۔۔۔جمشید نے کہا۔”وہ بتا رہے تھے کہ تم لوگ کسی بہت بڑی مشکل کا شکار ہو جاؤ گے۔جتنی جلدی ہو سکے فورا وہ گھر چھوڑ دو۔”کیا مسئلہ ہوا ہے کچھ خاص۔۔؟۔اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔۔
سعید صاحب کچھ بولنے ہی والے تھے کہ آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا او ایک نرس باہر نکلی۔”سارہ کے والد کون ہیں ؟
سعید صاحب تیزی سےآگے بڑھے۔جی میں ہوں کیا حال ہے اب میری بیٹی کا۔”انکے ساتھ ہی مسز سعیدآگےبڑھیں۔
“میری بیٹی کو بچا لیں پلیز میری زندگی کی واحد خوشی ہے۔’وہ پھر سے رونے لگیں۔سوری آپکی بیٹی خون بہہ جانے کی وجہ سے سروائیو نہیں کر سکی آپ ڈیڈ باڈی لے جاسکتے ہیں۔”اتنا کہہ کر وہ واپس اندر چلی گئی۔مسز سعید بے دم ہو کر گرپڑیں ان کی بہن انکو سنبھالنے لگیں اورسعید صاحب سکتے کے عالم میں جہاں تھے وہیں کھڑے رہ گئے۔جمشید ان کے پاس آکر تسلی دینے لگا آپریشن روم سے دو ڈاکٹر نکل کر ان کی طرف آئے۔”آپ نے لانے میں دیر کر دی آپکی بچی بہت بہارد تھی اس نے بہت ھمت سے برداشت کیا وہ سب۔۔ہم نے بہت کوشش کی مگر خون بہت زیادہ مقدار میں بہہ گیا تھا اس لئے اس کا بچننا تقریبا نا ممکن تھا۔”سعید صاحب نے کوئی جواب نہ دیا۔وہ بالکل خاموش تھے۔”سعید بھائی دیکھیں آپی سانس نہیں لے رہیں۔۔ان کی بہن نے چیخ کر انکو بلایا۔جمشید نے انکو آکر جھنجوڑا “سعید۔۔”سعید ہوش کرو۔بھابی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے وہ سانس نہیں لے رہیں۔”اس کی بات سن کر جیسے وہ ہوش میں آگئے۔”فریحہ۔۔۔۔فریحہ ہوش کرو۔۔تمہیں کچھ ہو گیا تو میں کس طرح جیوں گا۔میرا کون ہے تمہارے علاوہ۔وہ زور زور سے انکو ہلا رہے تھے”جمشید ڈاکٹرز کے کمرے کی طرف بھاگا۔تھوڑی دیر کے بعد اسکے ساتھ ایک لیڈی ڈاکٹر بھاگی آئی۔اور انکو چیک کرنے لگی۔۔پھر گویا ہوئی۔”سوری شی از ایکسپائرڈ۔یہ اب زندہ نہیں ہیں۔۔”اتنا کہہ کے وہ واپس چلی گئی۔برآمدہ چیخوں اور آہوں سے گونجنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ساتھ دو جنازے۔۔۔۔۔۔ سعید صاحب جب دفنا کر واپس لوٹے تو بلکل خاموش ہو گئے تھے۔رات ہوئ تو رشتے دار بھی ایک ایک کر کے واپس چلے گئے۔وہ اوپر سارہ کے کمرے میں آگئے۔گھر میں خاموشی کا راج تھا۔وہ سارہ کی سائڈ ٹیبل پر پڑی تصویر اٹھا کر دیکھنے لگے۔انہیں یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مسکرا رہی ہو۔انکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگےاب وہ بلکل خالی ہاتھ تھے ۔۔وہ اسی کے بیڈ پر لیٹ گئے۔آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ان کے ذہن میں سارے دن کا نقشہ گھومنے لگا۔یکا یک کمرے میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئے۔سارے کمرے میں ہلکی ہلکی سی بڑبڑاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی مگر نظر کچھ نہیں آرہا تھا۔وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے۔کہیں کچھ بھی نہ تھا۔پھر یہ آوازیں کیسی؟۔وہ دوبارہ غور کرنے لگے۔آوازیں بیڈ کے نیچے الماری کے پیچھے اور ڈریسنگ کے نیچے سے آرہی تھیں۔پھر انہوں نے ایک سیاہ پنجہ بیڈ کے پائنتی کی طرف نمودار ہوتا ہوا دیکھا۔وہ غور سے اس کی حرکت دیکھ رہے تھے۔وہ پنجہ مکمل ظاہر ہوا۔آہستہ آہستہ باقی جسم بھی نظر آنے لگا۔وہ ایک عجیب و غریب قسم کی مخلوق تھی اس کے ہاتھ پاوں کسی بلی کے مشابہہ اور چہرہ انسانی تھا۔آنکھوں کی جگہ گڑھے اور زبان سانپ کی طرح پھنکاریں مار رہی تھی۔پھر اس کے حلق سے غرغراتی ہوئی آواز نکلی۔”میں نے جس سے حساب لینا تھا لے لیا۔تجھ سے میری کوئی دشمنی نہیں ہے تو کیوں ڈرتا ہے۔؟”جہاں جانا ہے جا۔۔۔چلا جا۔۔۔مگر پلٹ کر اس گھر میں واپس مت آنا۔بہت منت کی تھی میں نے خدا بخش کی۔مگر ایک نہ مانا وہ اوراب۔۔۔۔۔اب دیکھ آج آخرکار حصار ٹوٹ گیا۔۔۔وہ پتھر کھسک گیا۔اور میں آزاد ہو گئی۔”پھر وہ ایک چیخ مار کر مکروہ ہنسی ہنسی۔۔۔میرے بچے 10 تھے۔ وہ سب سے چھوٹا تھا۔اور بزدل بھی تبھی تیری بیٹی کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا۔اور تیری بیٹی میرے ہاتھوں۔۔۔۔حساب مکمل ہوا۔اب تو جا۔۔چلا جا اس گھر سے ۔۔ یہ میرا گھر ہے۔یہاں کوئی نہیں بس سکتا۔صرف میں اور میرے بچے۔۔۔۔۔۔”یہ کہہ کر وہ دھواں بن کر تحلیل ہوگئی۔سعید صاحب دم بخود یہ منظر دیکھ رہے تھے۔اب کہنےکو کچھ بھی باقی نہ رہا تھا۔عفریت کا انتقام پورا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح انہوں نے اس گھر کو اپنے ہاتھ سے تالا لگایا اس پر تینوں تعویز لپیٹے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روانہ ہوگئے۔اس گھر سے اس شہر سے اس ملک سے کبھی نہ واپس انے کے لئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا جی نے جمشید سے جب ساری بات سنی تو ہل کہ رہ گئے۔وہ فورا اپنے استاد صاحب کو ساری بات بتائی۔”فکر نہ کر رب نواز۔۔۔اب وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاۓگی۔اس کا پیچھا چھوڑ۔۔۔پھر وہ بولے۔”اللہ کی ایسی مخلوق کسی کو تب تک تنگ نہیں کوتی جب تک اس کو اذیت نہ دی جائے۔وہ اب اسے کچھ نہیں کہے گی۔۔وعدہ ہے اسکا۔۔”بابا جی خاموشی سے بات سنتے رہے۔پھر وہ بھی واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔اب انکا کام یہاں ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9سال بعد۔۔۔۔۔
“ماما۔۔یہ میرا کمرہ ہوگا۔۔”احمد نے کونے والے کمرے کی طرف اشارہ کر کرکے بولا۔”اور وہ اوپر والا۔”عبداللہ نے کہا۔”ہاں ہاں بھئ۔۔جسکو جو پسند ہو لے لو۔مگر سامان کو اتارنے دو۔”حارث صاحب ہنستےہوۓ بولے۔۔”یہ بچے بھی نا بہت بے صبرے ہیں۔۔۔”۔مسز حارث کتابوں کا بکس اٹھاۓ ہوۓ اندر آئیں بچے تیزی سے بھاگتے ہوے باہر کی طرف نکلے اور اس مزدور کو کام کرتا کرتاہوا دیکھنے لگے۔جو بڑی مہارت سے” سعید ولاز” کو مٹا کر “حارث لاج” لکھ رہا تھا۔ پھولوں کی کیاریوں میں سے ایک زرد بلی نکلی اور سامنے کی دیوار میں غائب ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں