پاکستانی ماہرین کا ایل ای ڈی سے کورونا وائرس تلف کرنے کا کامیاب تجربہ

پشاور: پاکستانی ماہرین اور طالب علموں نے خاص طولِ موج خارج کرنے والی ایل ای ڈی سے کورونا کی وجہ بننے والے سارس کووٹو وائرس کے خاتمے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
تاہم اس کی تفصیلات کسی تحقیق مقالے سے قبل ایک بین الاقوامی آن لائن کانفرنس میں پیش کی گئیں جو امریکن انسٹی ٹیوٹ آف فزکس نے چار سے چھ اگست تک منعقد کی گئی تھی۔
غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طارق جمیل، محمد عثمان، حبیب اللہ جمال اور صبغت اللہ خان نے کانفرنس میں الٹراوائلٹ ایل ای ڈی کی تفصیلات پیش کی ہیں جس کی بدولت کورونا وائرس سے کسی بھی شے کو پاک کیا جاسکتا ہے۔
ن کے تحقیقی مقالے کا عنوان ’ڈیزائننگ 222 نینومیٹر تھری نائٹریٹ بیسڈ یو وی سی ایل ای ڈی فار دی ڈس انفیکشن آف سارس ٹو (کووڈ وائرس)‘ ہے۔ اس میں شرکا نے اپنے کام کو بیان کیا۔ تحقیق کے مطابق ٹیم نے فار الٹراوائلٹ ایل ای ڈی کو ڈیزائن کرکے اس کا طول موج 222 نینومیٹر تک رکھا۔ اس توانائی پر یہ انسانی جلد کو نقصان نہیں پہنچاتا اور کورونا وائرس تلف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس آلے کی ڈیزائننگ میں المونیئم گیلیئم نائٹریٹ کو استعمال کیا گیا ہے جو ماحول دوست، کم خرچ اور مؤثر ہے۔ تھرڈ نائٹریٹ یو وی سی ایل ای ڈی ویسے بھی طبی آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے عام استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں وائرس اور بیکٹیریا تلف کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
پاکستانی تحقیقی ٹیم نے اپنی ایجاد میں مزید بہتری کے بعد اس کی تیاری کا مکمل طریقہ بھی بیان کیا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں