ذیابیطس میں وٹامن ڈی کے فوائد پر نئی تحقیق

اسٹینفورڈ: اگر کوئی ذیابیطس کا مریض ہے یا پھر ذیابیطس کے کنارے پر پری ڈائبیٹس تک پہنچ چکا ہے تو اس صورتحال میں وٹامن ڈی کا باقاعدہ استعمال گردوں کی خاص حفاظت نہیں کرسکتا حالانکہ یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ وٹامن ڈی ذیابیطس کے مریضوں میں گردوں کی حفاظت کرتا ہے۔
اس ضمن میں ایک طبی آزمائش بھی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے کئی امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی آف میڈیسن کی پروفیسر سن ایچ کِم اور ان کے ساتھیوں نے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور وٹامن ڈی کے درمیان تعلق پر غور کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذیابیطس کا مرض گردوں کا شدید دشمن بن جاتا ہے۔
اسی طرح ذٰیابیطس کے کنارے موجود مریض (پری ڈائبیٹس) افراد کے گردے بھی اسی کیفیت میں متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس مطالعے میں کوئی 2423 افراد کو شامل کیا گیا جو ذیابیطس کے شکار ہونے والے تھے اوراکثر موٹاپے یا زائد وزن کے شکار بھی تھے۔ انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا جن میں سے ایک گروہ کو روزانہ 4000آئی یو مقدار وٹامن ڈی تھری کی دی گئی اور بقیہ کو فرضی دوا (پلے سیبو) دی گئی۔ یہ عمل قریباً تین ماہ تک دوہرایا گیا۔ اس طرح یہ ذیابیطس کے کنارے کھڑے افراد پر وٹامن ڈی کی سب سے بڑی تحقیق بھی ہے۔

اس دوران 28 افراد کے گردے خراب ہوئے جنہوں نے وٹامن ڈی کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ وٹامن ڈی نہ کھانے والے 30 افراد گردوں کے مریض بن گئے۔ اس طرح دونوں گروہوں میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوامی تاثر درست نہیں کہ وٹامن ڈی گردوں کو محفوظ رکھتا ہے بالخصوص ان افراد کے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار ہوتے ہیں۔

تاہم پروفیسر سن کہتی ہیں کہ وٹامن ڈی باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کی پیشاب میں کچھ ایسے پروٹین دریافت ہوئے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے گردوں کو فائدہ ہوتا ہے اور گردے تندرست رہ سکتے ہیں لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں