یہ کم خرچ ٹیسٹ تھوک میں کورونا وائرس کے ویریئنٹس کا پتا لگاسکتا ہے

میساچیوسٹس: ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے انجینئروں نے مشترکہ تحقیق سے ایک ایسی مختصر اور کم خرچ ٹیسٹنگ کٹ ایجاد کرلی ہے جو صرف ایک گھنٹے میں کورونا وائرس کے مختلف ویریئنٹس کا سراغ لگا سکتی ہے۔
یہ آلہ جینیاتی انجینئرنگ کی جدید تکنیک ’’کرسپر/ سی اے ایس 9‘‘ سے استفادہ کرتا ہے۔
ابتدائی تجربات کےلیے اسے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے تیار کیا گیا ہے جس پر ایک ٹیسٹ کی لاگت 15 ڈالر (تقریباً ڈھائی ہزار پاکستانی روپے) ہے۔

البتہ، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تجارتی پیمانے پر اس آلے کی تیاری سے ایک ٹیسٹ کی لاگت صرف 6 ڈالر یا اس سے بھی کم کی جاسکے گی۔

واضح رہے کہ ’’کرسپر‘‘ (CRISPR) پر انحصار کرتے ہوئے، بیماریوں کی تشخیص کرنے والی یہ تکنیک 2017 میں ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کے ان ہی سائنسدانوں نے ایجاد کی تھی اور تب اسے مختصراً ’’شرلاک‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

کورونا وائرس کی تشخیص کےلیے اسی تکنیک کو مختصر جگہ میں سموتے ہوئے، کم وقت میں بہترین نتائج دینے کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس آلے کا نام ’’مائی شرلاک‘‘ (miSHERLOCK) رکھا گیا ہے۔

یہ آلہ لعابِ دہن (تھوک) میں کورونا وائرس کا سراغ لگانے کے علاوہ اس کے مختلف ویریئنٹس کا بھی پتا چلا سکتا ہے جبکہ اس پورے عمل میں صرف ایک گھنٹے کے لگ بھگ وقت لگتا ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ میں اس حوالے سے شائع شدہ مقالے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’مائی شرلاک‘‘ سے کورونا وائرس کی تشخیص اتنی ہی درست ہوتی ہے کہ جتنی آج کسی بھی معیاری ’’پی سی آر ٹیسٹ‘‘ کے ذریعے ممکن ہے۔

اب تک اسے کورونا وائرس کی برطانوی، جنوبی افریقی اور برازیلی اقسام (ویریئنٹس) کی تشخیص میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے جبکہ معمولی تبدیلی کے بعد یہ ڈیلٹا ویریئنٹ کا سراغ بھی لگا سکے گا۔

یہ آلہ ایک چھوٹی میز پر سما جاتا ہے جبکہ اس کا وزن بھی بہت کم ہے۔ اپنی اسی خاصیت کی بدولت اسے ایک عام لوڈر گاڑی یا ایمبولینس میں رکھ کر دور دراز علاقوں تک آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔

اس آلے سے کورونا وائرس کی تشخیص کےلیے ایک موبائل فون ایپ بھی بنائی گئی جو اسمارٹ فون کیمرا استعمال کرتی ہے۔

تشخیص کی غرض سے آلے میں رکھے گئے نمونے کا تجزیہ مکمل ہوجانے کے بعد اس میں لگی ایل ای ڈیز روشن ہوجاتی ہیں جن کی رنگت دیکھ کر یہ ایپ کورونا وائرس کی عدم موجودگی یا موجودگی، اور کورونا وائرس کی قسم کے بارے میں بتا دیتی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی الگ الگ پریس ریلیزز میں بتایا گیا ہے کہ اس ایجاد کا مقصد اُن دور دراز علاقوں میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص آسان بنانا ہے جہاں سہولیات کا فقدان ہے۔

ان مقامات سے جمع کیے گئے نمونوں کو بڑے شہروں میں واقع پی سی آر ٹیسٹنگ لیبارٹریز تک پہنچانے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کورونا کے پھیلاؤ پر بروقت نظر رکھنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

خبروں میں اس آلے کی تکنیکی تفصیلات ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ تجارتی پیمانے پر اس آلے کی تیاری کب، کیسے اور کس ادارے کے تعاون سے شروع ہوگی۔ علاوہ ازیں، یہ بھی معلوم نہیں کہ ’’مائی شرلاک‘‘ عام استعمال کےلیے کب تک دستیاب ہوسکے گا۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں