جب امی کو پتہ چلا کہ محلے کے درزی کے ساتھ میرا نا جائز تعلق ہے

جب امی کو پتہ چلا کہ محلے کے درزی کے ساتھ میرا نا جائز تعلق ہے

وہ آ ئی بی اے کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم بی اے کر رہی تھی ہماری دوستی سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک پر سنہ 2015میں ہوئی تھی میں ان دنوں سو شل میڈیا پر اپنی ٹوٹی پھوٹی تحریر یں شئیر کیا کر تا تھا اسے میری کوئی تحریر اچھی لگی.

تھی تو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی میں نے قبول کر لی ہماری کبھی بھی بات نہیں ہو ئی تھی بس وہ میری فرینڈ لسٹ میں تھی ہمارا پہلی بار فیس بک انبا کس میں ہی رابطہ دسمبر 2018میں ہوا اس نے بتا یا کہ وہ 2017میں این اے بی میں ایک کلیدی عہدے پر سلیکٹ ہو چکی.

تھی اور شادی بھی ہو چکی ہے میں نے کہا کیا کر تے ہیں دولہے میاں تو پتہ چلا و ہ درزی کا کام کرتے ہیں اور بس میٹرک پاس ہیں اب مجھے اس بظاہر مس میچ کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا کہ شادی کے معیارات پر میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا۔

اس سے کہا کہ میں تمہیں ملنا چاہوں گا کہتی موسٹ ویلکم کبھی بھی گھر آ جاؤ آفس آ جاؤ۔ گذشتہ ہفتے میرا کسی کام سے لاہور چکر لگنا تھا تو میں اسے بھی ملنے کا پلان کیا اور طے شدہ وقت پر ٹھو کر نیا ز بیگ پر عاقع نیب کے دفتر پہنچ گیا گیٹ

پر میرا مو با ئل جمع کر لیا گیا اور اسکے آفس کا راستہ سمجھا دیا گیا کوئی ایک بچے میں متعلقہ آ فس کے باہر تھا خیر میں دستک دے کر دفتر میں داخل ہوا ایک لڑکی دفتر میں ایک سائیڈ پر نماز پڑھ رہی تھی

ایک عبا یا ایک کر سی پر پڑا تھا میری طرف اسکی کمی تھی تو چپکے سے ایک طرف بیٹھ گیا خیرا س نے نماز پڑھی میری طرف مڑی تو میں نے دیکھا وہ ایک شدید ترین خوبصورت لڑکی تھی بنا کسی بھی میک اپ کے ایک پر نور چہر ہ تھا۔

جیسے رحمت برس رہی ہو اور اس کی ذات میں ایک عجیب سی روشنی و رعب تھا سلام دعا کے بعد کہتی خطیب صاحب آپ کو کسی نے باہر روکا نہیں؟ میں نے کہا کوئی با ہر تھا ہی نہیں اتنے میں اس نے واش روم جا کر عبا یا پہنا اور نقاب کر کے واپس آ فس میں آ کر اپنی کر سی پر بیٹھ گئی

اور بیل دی تو ایک بھائی اندر آ ئے اور مجھے یوں دیکھا جیسے ہی کوئی خلائی مخلوق ہوں میڈم نے اسے کچھ کہنے سے پہلے ہی اشارہ کر دیا کہ خاموش رہو اور چائے کے ساتھ پیزا منگو ا ؤ۔ وہ با ہر گیا

تو پتہ چلا کہ میڈم مکمل پردہ کرتی ہیں آج تک آ فس میں کسی نے چہرہ نہیں دیکھا بلکہ ہر نا محرم سے پردہ ہے وہ شاید واش روم گیا ہوا تھا تو میں اسی لمحے اندر آ گیا ورنہ نماز کے وقت تو کسی کو بھی انداز جانے کی اجازت نہیں ہے۔

میں نے کہا معذرت قبول کر یں میں باہر رک جا تا یہ صاحب دروازے پر ہوتے تو کہتی اٹس او کے ایزی رہیں میں نے بلا تاخیر سوال کیا کہ میڈم آ پ کی شادی پر حیران ہوں کہتی پو چھیں کیا حیرانی ہے؟ میں نے کہا جاب میں آنے کے بعد شادی ہوئی یا پہلے؟

کہتی جاب کے ایک سوال بعد۔ میں نے کہا بچپن کا رشتہ طے تھا تو کہتی سر جس سے طے تھا اس نے ایک وفاقی منسٹر کی بیٹی سے شادی کر لی جب میں بی بی اے کر رہی تھی میں نے کہا یہ بھائی آ پ کے کزن ہیں؟

کہتی جی نہیں میں یو نیورسٹی لائف سے ان سے کپڑے سلا ئی کرا رہی تھی میں نے کہا آ پکے ابو کیا کر تے ہیں۔
تو کہتی وہ پو لیس سے ریٹا رڈ ایس پی تھے اب اس دنیا میں نہیں ہیں میں نے پو چھا اچھا یہ شادی کیسے ہو ئی؟ کہتیں یار میں 2013 سے اسی دکان سے کپڑے سلائی کر ا رہی تھی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے گلے میں برائے نام بھی دوپٹہ نہیں ہوتا تھا میں تقریباً ہر دوسرے دن اپنے منگیتر سے ملتی تھی ہم سینما بھی جا یا کرتے تھے نہ کبھی بالوں میں کوئی پر اندہ یا کچیر لگا

یا تھا بال کھلے ہی رکھتی تھی ہر ماہ کٹنگ کراتی تھی ابو جی پو لیس آفیسر تھے سر کا ری گھر تھا میں والدین کی اکلو تی اولاد ہونے کی بنا پر لاڈلی بہت تھی خاص طور پر ابو جی مجھے شمو کہتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں