شادی شدہ مر د اپنی بیوی چھوڑ کر بازاری عورتوں کی آغوش میں کیوں جاتے ہیں دماغ ہلادینے والا آرٹیکل


جب انسان بہت ہی اچھے لوگوں سے ڈرنے لگے تو سمجھ لیں کہ کسی نے اعتبا ر نہایت ہی سلیقے سے توڑا ہے۔ ایک شخص ہے پانے سے پہلے ہی آپ کو اس کے کھونے کا یقین ہو، اور پھر اسی سے آپ کو محبت ہوجائے اور پھر وہ محبت انتہاء ک وپہنچ جائے ، پھر وہی ہو کے وہ کھو جائے، مجھے ذرا بتائیے تو سہی ایسا درد انسان کا کیا حال کرتا ہے؟عورت کی عزت کی حفاظت عورت کے ذمے ہے مرد کرے تو اس کی ترییت ہے ورنہ اس سے امید مت رکھو۔

آج کل لوگ نکاح سے پہلے صورت اور نکاح کے بعد سیرت ڈھونڈتے ہیں ۔ لازمی نہیں کے لال جوڑے میں دلہن ہی ہو میں نے کئی لا ش وں کو دلہن کے جوڑے میں لپٹے دیکھا ہے۔ اور ساتھ میں ان کے ارمان خواب اور خواہشیں دفناتے ہوئی دیکھی ہیں۔ تم اس شخص کا درد نہیں جان سکتے جس نے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر اپنے دل و دماغ سے کسی کو بھلائے جانے کی دعا مانگی ہو۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ایک لڑکی اپنے سسرا ل کے معیار تک پہنچتے پہنچتے قب ر تک بن جاتی ہے۔

شادی شدہ مرداپنی بیویاں چھوڑ کر بازاری عورتوں کی آغوش میں لذت تلاش کرنے آتے ہیں۔ اوریقینا ً مردوں کو اس تلاش میں کامیابی ہوتی ہے۔ کیونکہ بازاری عورتیں اس فن کی ماہر ہوتی ہیں۔ وہ یہی چیز تو بیچتے ہیں ۔ ان کا پیشہ ہی یہی ہے کہ گھریلو عورتوں سے بالکل مختلف رنگ کی لذت پیش کریں اگروہ ایسا نہ کریں توان کا کاروبار کیسے چل سکتا ہے ؟ اس لیے میں یہ کہوں گا عصمت فروشی خلاف عقل چیز نہیں۔ ۔ جب یہ دو نشانیاں ظا ہر ہوں تو سمجھ لو کہ تمہیں چاہنے والا تمہیں یاد کررہا ہے ۔ پہلی نشانی : یہ کہ تم کسی بھی کام میں مصر وف ہواوراچانک سے اس کی یاد آجائے۔

دوسری نشانی: یہ کہ تمہارے نظرانداز کر نے کے بعد کسی نہ کسی ذریعے سے اس شخص کا نام باربار تمھارے سامنے آتا ہے۔ اصل میں مرد عورت سے کبھی بھی محبت نہیں کرتا، وہ سالن کی طرح عورت کو چکھنا چاہتا ہے اگر پسند آجائے تو کھا لیتا ہے اگر نہ آئے تو کسی دوسرے مرد کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ عورت کو پوری زندگی کھا پی کر آخر میں کہتا ہے مجبوری ہے تم سے شادی نہیں کرسکتا ۔

عورت بھی مرد کو خالی ہاتھ جانے نہیں دیتی وہ بھی اس کی بیٹی کے لیے تحفہ دے جاتی ہے یعنی اپنے چہرے کی زردی ، خاموشی ، اذیت، کرب اور نم آنکھیں ۔ تاکہ مرد جان سکے کہ عورت کیا ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جب من بھرا ہوا ہو تو چھوٹی سی بات پر ہی رونا آجاتا ہے اورجب رونا شروع کردیں تو ہر وہ بات یاد آجاتی ہے جس پر کبھی روئے تھے اور پھر آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لیتے بس بہت چلے جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں